منگلورو:25/اگست(ایس او نیوز) پاکستانی عوام کی تعریف میں دئیے گئے کانگریس لیڈر اورمعروف کنڑا فلمی اداکارہ رمیاکے بیان کو سیاسی مفادات کی خاطرتنازعہ بنا کرریاست میں جہاں گھماسان جاری ہے، وہیں آج شام جب فلمی ایکٹرس رمیا منگلورو پہنچیں تو احتجاج کرتے ہوئے بی جے پی یوتھ مورچہ کے کارکنان کی طر فسے رمیا کی کار پر انڈے پھینکے جانے کا واقعہ پیش آیاہے۔
بی جے پی یوتھ مورچہ کے کارکنان کو جیسے ہی رمیا کے منگلورو دورے کی خبر ملی تو سیدھے منگلورو بین الاقوامی ہوائی اڈہ پہنچ کرکینجاروسرکل پرجمع ہوگئے اور احتجاج شروع کردیا ۔ رمیا نے پاکستانی عوام کی مہمان نوازی کی تعریف کرتے ہوئے بیان دیا تھا کہ وہاں کے عوام ہندوستانی عوام جیسے ہی ہیں۔ ان کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے یوتھ مورچہ کے کارکنان نے رمیا کی کار پر انڈے پھینکے ۔ حالات کو دیکھتے ہوئے پولس نے احتجاجیوں پر لاٹھی چارج کیا اور معاملے کے متعلق کئی ایک کو اپنی تحویل میں لیا۔ منگلورو ہوائی اڈے کے وداعی سڑک پر احتجاج کرتے ہوئے رمیا کے خلاف نعرہ بازی کی۔ ہوائی اڈے کے باہر رمیا کے ساتھ یوٹی افتخار اور متھن رائے بھی دیکھے گئے۔ ہوائی اڈےپر پولس نے 5احتجاجیوں کو اور کینجاروسرکل پر6احتجاجیوں کو گرفتارکیا۔ شہر کے کدری میں منعقدہ شری کرشنا سٹمی پروگرام میں شرکت کے لئے رمیا منگلورو پہنچی تھیں، احتجاج کے پیش نظر ہوائی اڈے پر پولس کا زبردست بندوبست کیا گیا تھا۔
منگلورو سے شہر پہنچنے کے بعد رمیانے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’جب میں منگلورو پہنچی تو مجھ پر انڈے پھینکے گئے، سیاہ جھنڈے دکھائےگئے ،میں اپنا بیان واپس نہیں لونگی، مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے‘‘۔اس طرح رمیا نے واضح کردیا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہے اور معافی نہیں مانگیں گی۔
منگلورو بہتر ین مقام ہے: منگلورو میں یونیٹی اسپتال میں کسی سے ملاقات کرنے کے بعد اخبارنویسوں سے بات کرتے ہوئے فلمی ایکٹرس رمیا نے کہا کہ’’منگلورو ایک بہترین مقام ہے، جیسے کہ جنت۔ یہاں اچھے لوگ ہیں، جنہوں نے میرے ساتھ سلفی لی ہے، میں نے کبھی نہیں کہا کہ منگلوروجہنم ہے، جیسے کہ کچھ میڈیا نے بات کا بتنگڑ بنایاہے، میں نے واضح کردیاہے کہ میں جب ایک ٹی وی چینل سے بات کررہی تھی تو میرے جملے کو غلط استعمال کیا گیا ہے۔ مجھے منگلورو سے بے حد محبت ہے، میں اپنا الیکشن کیمپن یہیں سے شروع کیا تھا، آخر میں کیوں منگلورو کو جہنم کہوں ؟۔ پاکستانی بیان پر رمیا نے کہا کہ میں نےوہاں یعنی پاکستان میں جو کچھ دیکھا اور تجربہ ہوا اس کو بیان کیا ہے، اب اس کا غلط استعمال کرتے ہوئے تنازعہ کھڑا کیاجاتا ہے تو میں کیا کروں۔ میں وکیلو ں کی مدد سے غداری کیس لڑوں گی ، تمہارے (میڈیا کے)درمیان آپس میں مقابلہ آرائی ہے، لیکن میڈیا کو بیان بدل کر یا مسخ کر پیش نہیں کرنا چاہئے۔